ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ بلدیاتی اختیارات سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست پر فیصلہ پورے پاکستان کی عوام کی کامیابی ہے، سرداروں کے دن گنے جاچکے ہیں اب عوام اپنے حق کیلیے کھڑی ہوسکتی ہے
حیدرآباد سے سی ون کے نمائندے مانی پٹھان کے مطابق
کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے ڈسٹرکٹ آفس پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک کی عوام تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں،ایم کیو ایم پر غیر اعلانیہ پابندی ہے، ان تمام رکاوٹوں کے باوجود 22 اگست 2016 دن کے بعد بھی ایم کیو ایم موجود ہے، یہ اس لیے کیونکہ ہمارا نظریہ مضبوط تھا، ہم نے اپنے لیے عدالتوں اور ایوانوں کا راستہ اپنایا ہے، سندھ کے شہری علاقوں کی عوام روڈ پر آجائے تو اسلام آباد کا منظر نامہ تبدیل ہوجائے، پاکستان کا بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں نام نہاد جمہوریت رہی ہے، جاگیردارانہ نظام ہے جو بے روزگاری بھوک پر پلتا ہے، پاکستان میں لسانی بنیادوں پر صوبے بنے ہوئے ہیں، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جن کے آباؤ اجداد نے قربانیاں دیں انہیں حق نہیں دیا گیا، ہزاروں لاکھوں سزائیں ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ملتی رہیں، ہمیں اعلی عدالتوں پر بھروسہ رہا ہے، کل پاکستان کی عدالت نے اپنی لاج رکھی، اٹھارویں ترمیم کیلیے ایم کیو ایم کی ٹیم کو سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان کی عوام کو جمہوریت کے ثمرات پہنچانے کیلیے آرٹیکل 140 اے ہے اس اٹھارویں ترمیم میں ڈلوایا، خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ہم نے بیج ڈالا جو آج کامیاب ہوا، سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف ایم کیو ایم نہیں پورے پاکستان کی کامیابی ہے، ہم نے لوئر کلاس کے سندھیوں کو ایک طاقت فراہم کی ہے، اس فیصلے کے بعد سندھ کا غریب شہری وڈیروں کے سامنے اپنے حق کیلیے کھڑا ہوسکتا ہے، اس جاگیردارانہ جمہوریت، موروثی سیاست کا تخت اُلٹ کر رکھنا ہے، پورے پاکستان کی عوام کیلیے یہ موقع ہے، قدم بڑھائیں ہم آپ کے پیچھے چلنے کو تیار ہیں، یہ قانونی جنگ پاکستان کی عوام کے لیے جیتی ہے وزیراعلی ہاؤس پر میری بہنوں پر شیلنگ لاٹھی چارج کی گئی، یہ اسی ظلم کے خلاف کامیابی ہے، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم کریڈٹ لینا نہیں چاہتے، سب سیاسی جماعتیں ساتھ آئیں، کراچی اور حیدرآباد کے میئر کو کچرا اُٹھانے کا اختیار نہیں تھا، یہ اختیار دادو کے وزیر اعلی کے پاس تھا، ان وڈیروں، جاگیرداروں، سرداروں کے دن گنے جاچکے ہیں، ہم قانونی اور ایوان کا راستہ نہیں چھوڑیں گے، اگر مجبور کیا گیا تو پھر سڑک کا راستہ نہیں چھوڑیں گے۔

